سانحہ جعفر ایکسپریس: پاکستان ریلوے کا بلوچستان کیلئے ٹرین سروس معطل کرنے کا اعلان

Jaffar Express tragedy: Pakistan Railways suspends train service to Balochistan

کوئٹہ (آئی آر کے نیوز): جعفر ایکسپریس پر دہشت گردوں کے حملے کے بعد بلوچستان جانے اور آنے والی ٹرینوں کی سروس کو معطل کردیا گیا ہے۔

  تفصیلات کے مطابق پاکستان ریلوے نے عارضی طور پر پنجاب اور سندھ سے بلوچستان کے لیے اپنے آپریشنز کو معطل کر دیا ہے۔

ڈان نیوز میں شائع ہونے والی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ پاکستان ریلوے کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) عامر علی بلوچ نے اس حوالے سے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بلوچستان کے لیے تمام مسافر اور مال بردار ٹرینیں اس وقت تک معطل رہیں گی، جب تک سیکیورٹی ایجنسیوں کی جانب سے علاقے کی کلیئرنس نہ دے دی جائے، بلوچستان میں حالات معمول پر آنے تک ٹرینیں عارضی طور پر معطل کی ہیں۔

سی ای او ریلوے عامر علی بلوچ نے کہا کہ ہم پاکستان کی سلامتی کے اداروں کے ساتھ اس حوالے سے رابطے میں ہیں، تاہم یہ نہیں بتاسکتے کہ اس وقت زمینی صورت حال کیا ہے، تاہم انہوں نے تمام مسافروں، ریلوے کے عملے اور شہریوں کی سلامتی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار اور دعا کی۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز بلوچستان میں ملک دشمنوں کی جانب سے بدامنی پھیلانے کے سلسلے میں صوبائی دارالحکومت کوئٹہ سے خیبرپختونخوا کے دارالحکومت پشاور جانے والی ٹرین (جعفر ایکسپریس) پر حملہ کر کے مسافروں کو یرغمال بنالیا گیا تھا، تاہم سیکیورٹی فورسز نے بزدل دشمن سے 155 مسافروں کو رہا کروالیا جب کہ آپریشن میں 27 دہشت گردوں کو جہنم واصل بھی کردیا گیا ہے۔

بلوچستان میں دہشت گردی کا یہ افسوس ناک واقعہ مچھ میں گڈا لار اور پیرو کنری کے درمیانی علاقے میں پیش آیا تھا، جہاں کوئٹہ سے پشاور جانے والی جعفر ایکسپریس پر فائرنگ کی گئی، جس کے نتیجے میں ٹرین ڈرائیور بھی زخمی ہوگیا تھا۔

سیکیورٹی ذرائع کا کہنا تھا کہ بولان کے پاس ڈھاڈر کے مقام پر دہشت گردوں نے جعفر ایکسپریس پر حملہ کر کے معصوم شہریوں کو ٹارگٹ کیا تھا، دہشت گردوں نے جعفر ایکسپریس کو ٹنل میں روک کر مسافروں کو یرغمال بنایا تھا۔

سیکیورٹی ذرائع نے بتایا تھا کہ دہشت گرد بیرون ملک اپنے سہولت کاروں سے بھی رابطے میں تھے، دہشت گردوں کے خاتمے تک کلیئرنس آپریشن جاری رکھا گیا۔

انتہائی دشوار گزار اور سڑک سے دور ہونے کے باوجود سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر کلیئرنس آپریشن شروع کر دیا تھا، یرغمالیوں میں اکثریت عورتوں اور بچوں کی تھی۔

 

جدید تر اس سے پرانی