اسلام آباد (آئی آر کے نیوز): پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) رہنما اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب نے الزام عائد کیا ہے کہ آصف زرداری ہو یا بلاول بھٹو دونوں سندھ کا پانی بیچنے جا رہے ہیں۔
پارلیمنٹ ہاؤس میں پریس کانفرنس کے دوران اپوزیشن لیڈر عمر ایوب کا کہنا تھا کہ آصف زرداری خود کو صدر کہتے ہیں لیکن ہم اس انسٹالڈ حکومت کو نہیں مانتے، آصف علی زرداری نے کوئی اچھی بات نہیں کی۔
انہوں نے کہا کہ یہ پیکا ایکٹ میں فارم 47 کی حکومت کے ساتھ کھڑے رہے، موجودہ حکومت اقتصادی طور پر ناکام ہوچکی ہے، کرپشن انتہا پر ہے اور یہ خوشیاں منا رہے ہیں کہ مہنگائی کم ہوگئی ہے، آئیں ہمارے ساتھ چلیں اور پتا کریں کہ مہنگائی کم ہوئی ہے یا بڑھی ہے۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ پیپلز پارٹی نے سندھ میں کرپشن کے ریکارڈ توڑ دیے ہیں، آصف زرداری ہو یا بلاول بھٹو دونوں سندھ کا پانی بیچنے جا رہے ہیں جب کہ آج ہم نے بے نظیر کی تصویر کے پیچھے زرداری کی باقیات دیکھے،اپنی تقریر میں زرداری ثابت نہیں کرسکے کہ پاکستان میں جمہوریت ہے۔
دوسری جانب، پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ صدر زرداری نے دریائے سندھ سے نئی نہریں نکالنے کے یکطرفہ فیصلے پر حکومت کو خبردار کردیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صدر زرداری نے پارلیمان میں خطاب کیا، پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار کسی صدر نے 8 ویں بار خطاب کیا، کل صدر مملکت نے تمام مسائل کو کور کیا، صدر زرداری نے خطاب میں عوام کے اصل مسائل پر بات کی۔
بلاول بھٹو نے مزید کہا کہ صدر زرداری نے حکومت کے یک طرفہ پالیسیوں پر بھی تبصرہ کیا، نئی کنال دریائے سندھ سے نکالنے کے حکومتی یک طرفہ فیصلے پر بات کی، اور حکومت کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اس مسئلے پر اتفاق رائے سے فیصلہ کیا جائے۔
یہاں یہ بھی خیال رہے کہ گزشتہ روز پارلیمانی سال کے آغاز پر پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے
صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا کہ کچھ یک طرفہ پالیسیاں وفاق پر شدید دباؤ کا باعث بن رہی ہیں، بطور صدر دریائے سندھ سے مزید نہریں نکالنے کے یک طرفہ حکومتی فیصلے کی حمایت نہیں کرسکتا۔
صدر مملکت نے مزید کہا کہ حکومت سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ اس موجودہ تجویز کو ترک کردے اور تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر کام کیا جائے تاکہ وفاق کی اکائیوں کے درمیان متفقہ اتفاق رائے کی بنیاد پر قابل عمل، پائیدار حل نکالا جاسکے۔